؞    پردیس میں ایک اور عید گزر گئی۔۔۔
۵ ستمبر/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر : عزیز اعظمی (اسرولی ،سرائے میر)
شام کے 6 بج رہے تھے ابھی تک میں دفتر میں تھا مینیجر کی ہدایت کی آج اس کام کو ختم کرنا ضروری ہے کام تو آخری سانس تک ختم ہونے والا نہیں لیکن آج کا کام ختم کرکے 10 بجے رات کو دفتر سے روم پر پہونچا صبح عید کی نماز کی تیاری بھی کرنی تھی ہماری اعظمی تہذیب کہ جب تک کرتا پاجا نہ پہنو عید کا احساس ہی نہی ہوتا اتفاق سے ماجد کچھ ہی دن پہلے گھر سے آیا تھا تو والد صاحب نے اسکے ہاتھوں ایک کرتا پاجاما بھیجوا دیا تھا جوتے کو پالش کیا ، کرتا پاجاما پریس کیا اور تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گیا یہاں عید کی نماز جلدی ہوتی ہے فجر کے فورا بعد عیدگاہ جانا ہوتا ہے سوچا اگر اب سوتا ہوں تو نماز کے لئے اٹھنا مشکل ہوگا دفتر میں مشغولیت کی وجہ سے موبائل چیک نہیں کیا دیکھا تو واٹس اپ پر بہت سارے پیشگی مبارکباد کے میسج تھے محترمہ کا بھی میسج تھا کہ چھوٹا بیٹا ایان بہت یاد کر رہا تھا وائس ریکارڈ سنا تو بیٹے کی آواز کہ " ابو یا ابو ابو تلے آؤ " شاید میرا چہرا اسے یاد بھی نہ ہو لیکن باپ کے نام سے فطری محبت اسکا حسرت بھرا معصومانہ لہجہ روح تک اتر گیا پتھرائی آنکھوں کو نم کر گیا اس قدر افسردہ اور جذباتی کیا کہ بس صبح استعفی دوں اور گھر چلا جاؤں لیکن میرے ساتھ جڑے نصیب اور ذمہ داریوں کے بیچ جذبات کی کوئی جگہ نہیں اپنے آپ کو سمجھاتا رہا کہ مجھ جیسے لاکھوں لوگ وطن سے دور بال بچوں سے دور تنہائی کی زندگی کاٹ رہے ہیں میں کوئی اکیلا تو نہیں اولاد کا بچپنه پردیسیوں کے نصیب میں کہاں غموں میں ڈوب کر دوسروں کو خوش رکھنا کیا یہ کسی خوش نصیبی سے کم ہے

پردیسیو کی زندگی دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیرہ تو کرتی ہے لیکن حقیقتا اسکی زندگی ایک سراب اور بن تعبیر ، خواب کے سوا کچھ نہیں بیڈ پر لیٹا خود سے بحث کرتا رہا اچانک گھڑی پر نظر گئی تو 3 بج چکے تھے جلدی سے نہا کے تیار ہوا فجر کی نماز پڑھی اور عید گاہ چلا گیا سعودی میں یہ میری پہلی عید تو نہیں لیکن اس عید پر طبیعت بڑی اداس تھی نماز پڑھ کر عید گاہ سے باہر نکلا تھوڑی دیر باہر کھڑا رہا آفس کے ساتھیوں سے گلے ملا انہیں مبارکباد دی گھر تو تھا نہیں کہ بچوں کے لئے غبارے ، کھلونے خریدنے ہیں راستے سے ایک کلو اجوا کھجور لی روم کو واپس آگیا میرے روم سے پہلے ہی پرانی دہلی سے تعلق رکھنے والے یوسف بھائی کا روم تھا کالج کے زمانے میں پرانی دہلی سے بڑی وابستگی تھی اس لئے ان سے بڑا لگاؤ تھا بڑے خلوص سے عید مبارک پیش کی اور مسکراتے ہوئے بولے آپکی پسند کا شیر خورمہ بنا ہے کھا کر جائیے عید کے موقعہ پر گاؤں کی سنوئی اور پرانی دلی کے شیر خورمے کا کوئی جواب نہیں شیر خورمہ تو بڑا لزیز بنا تھا لیکن اس جیسا نہیں جو کسی زمانہ میں پرانی دلی میں کھایا کرتا تھا ماضی حال سے اسوقت کئ گنا حسین ہوتا ہے جب یاد بن کر سامنے کھڑا ہو دل بڑا بوجھل اور غمگین تھا لیکن یوسف صاحب کے خلوص اور شیر خورمے نے کچھ ہلکا کر دیا ۔
روم پر آیا واٹس اپ آن کیا سوچا بچوں سے بات کروں ویڈیو کال کی بیگم نےفون اٹھایا اور جلدی میں مبارکباد دیتے ہوئے کہا معذرت چاہتی ہوں توے پر روٹی ہے جل جائے گی بچے باہر ہیں میں بعد فون کرتی ہوں ہلو ہلو ارے سنو تو یہاں نٹ کی بڑی پروبلم ہے بعد میں نٹ ورک رہے نہ رہے ہلو ۔۔۔ ہلو ۔۔۔ فون کٹ گیا اب کیا کروں سوچا دوستوں کو ہی مبارکباد دے دوں گاؤں کے عبید بھائی کالج کے ساتھیوں میں سے ہیں انکو فون کیا ہلو سلام علیکم عید مبارک وعیلکم السلام آواز سے لگا کہ سو رہے ہیں عبید بھائی سو رہے ہیں ہاں نماز پڑھ کر آیا سو گیا روم پر سب سو رہے ہیں ٹھیک ہے رات میں بات کرتے ہیں ۔۔ سعودی عرب کی عید ایسی ہی ہے کہ نماز پڑھ کر روم پر آئے اماں ابا سے بات کیا بیگم کو کرتے پاجامے والا فوٹو بھیجا فیس بک پر عید مبارک کا وال پیپر اپ لوڈ کیا لائیٹ آف کی اور کمبل تان کر سو گئے ۔۔ میں بھی بیڈ پر لیٹا سونے کی کوشش کی رات بھر جگی آنکھوں کو بھی نیند نہیں تنہائی میں بیٹے کی حسرت بھری آواز نے میری بے چینی کو اس قدر بڑھایا کہ گھبرا کر باہر نکل گیا چارو طرف سناٹا ، ویران سڑکیں ، چلچلاتی دھوپ ، تپتی ریت کہیں سے بھی ہندوستان جیسی عید کی رونق نظر نہیں آرہی تھی چلتا ہوا چورنگی کے پاس پہونچ گیا جس روڈ کو کراس کرنا ممکن نہیں تھا آج وہ بھی خالی پڑا تھا اکثر سعودی عید منانے کے لئے مدینہ چلے جاتے ہیں اور خارجی پورے سال کی تھکن کو ان چھٹیوں میں سو کر پوری کر لینا چاہتے ہیں ۔۔ کیرلہ ہوٹل سے سلیمانی چائے لی اور اکیلا چورنگی پر کھجور کے نیچے بیٹھ کر آتی جاتی گاڑیوں کو گنتا رہا یہ عید میں نے جیزان شہر کی چورنگی پر بیٹھ کر گزاری۔ آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب اور دل میں اس قدر غبار لئے بیٹھا تھا کہ اگر کوئی پیار سے اتنا پوچھ دیتا کہ بیٹا اکیلے کیوں بیٹھے ہو تو آنکھیں پھٹ پڑتیں لیکن یہاں کون پوچھنے والا اسی تنہائی کے عالم میں بیٹھے بیٹھے کب جمعہ کی اذان ہوگئی پتہ ہی نہیں چلا دل نے کہا یہاں بیٹھنے سے بہتر ہے مسجد میں بیٹھوں اس سے سکون کی جگہ اور کہاں شاید جمعہ کے بعد کوئی جاننے والا مل جائے تو بات کرکے دل ہلکا ہو جائے ۔مسجد پہنچنے پر خیال آیا کہ میرے جاننے والے تو تقریباً سب ہی نماز کے بعد سوگئے یا پھر دوسرے شہروں میں نکل گئے ہیں جمعہ کے بعد سوچا کسی لاہوری ہوٹل چلوں اور وہاں کا چبلی کباب کھاؤں لیکن آج لاہوری ہوٹل بند تھا مجبورا کیرلہ ہوٹل گیا اٹلی سانبھر کھا کر روم پر واپس آگیا کئی دن سے کپڑا نہیں دھویا تھا سوچا کپڑا ہی دھو لوں مشین میں کپڑے ڈالے اور لیٹ گیا سو کے اٹھا تو مغرب کی اذان ہورہی تھی اور اسی طرح سعودی کی ایک اور عید گزر گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عید مبارک

9 لائك

0 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

3 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.