؞   کھیتا سرائے:ٹرین کھڑی رہی اور صرف انجن دوڑتا رہا
۳۰ اگست/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
کھیتا سرائے(حوصلہ نیوز): کیفیات ایکسپریس کے حادثے کے بعد بدھ کو دون ایکسپریس)(13009) بھی سرخیوں میں رہی۔ ہاوڑہ سے دہرہ دون جانے والی اس گاڑی کے انجن کا بقیہ ڈبوں سے رابطہ ہی ٹوٹ گیا اور کھیتا سرائے کے پاس انجن دوڑتا رہا اور مسافروں سے بھری گاڑی پیچھے ہی چھوٹ گئی۔
دون ایکسپریس جب کھیتاسرائے ریلو ے اسٹیشن سے گذر رہی تھی اس وقت گیٹ مین ہیرا لال نے دیکھا کہ انجن اور باقی بوگیاں الگ ہورہی ہیں، اس نے فورا اس کی اطلاع اسٹیشن ماسٹر کو دی اور اسٹیشن ماسٹر نے ریلوے کے اعلی حکام کو خبر دار کیا تب تک انجن ٹرین سے الگ ہوکر اسرہٹہ کے پاس آزاد کراسنگ پہنچ گیا تھا۔ ٹرین کو اس طرح رکتے دیکھ کر مسافروں میں افراتفری مچ گئی۔تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ یہی حالت رہی اور پونے تین بجے شاہ گنج سے دوسرا انجن آیا اور ٹرین دہردون کے لئے روانہ ہوئی۔

0 لائك

0 پسندیدہ

3 مزہ آگیا

1 كيا خوب

4 افسوس

4 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.