؞   ڈیجیٹل انڈیا میں ڈیجیٹل سموسہ
۱۸ اگست/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: عزیز اصلاحی
(حوصلہ نیوز) : سعودی عرب سے سالوں بعد چھٹی میں گھر گیا تو دیکھا گاوں یکسر بدل گیا تھا لوگ چارپائی چھوڑ کرسی پر بیٹھنے لگےتھےبچے ماڈرن ہو گئے تھے جینس اور ٹراوزر پہننے لگے تھے انٹر نیٹ تو ایسا فر فر چلاتے تھے گویا موبائیل ہمارے گاؤں نے ہی ایجاد کیا ہو۔ سب تو سب جھوری چچا ، فرتو دادا بھی لنگی میں کیمرے والا موبائیل کھونسے ہوئے تھے ۔۔ جون کا مہینہ شدید گرمی بجلی ندارد ابا کو کہتےہوئےسنا کہ چار گاوں کا تار ہی کٹ گیا ہے لائیٹ کب آئے گی کل مودی جی کے “من کی بات ” میں ریڈیو پر پتہ چلے گا ۔ ایک سال میں جسم 24 گھنٹہ اے سی کا عادی ہو گیا تھا باہر نکلا تو دیکھا سامنے کے میدان میں شیشم کے درخت کے نیچے بچے گانا لگا کر پروا ہوا کا لطف لے رہے تھے ۔۔ بچوں کی محفل میں میرا وہاں بیٹھنا رنگ میں بھنگ ڈالنے کے مترادف تھا واپس آکے پھر گھر کے دروازے پہ لگے نیم کے نیچے بیٹھ گیا لیکن سامنے تالاب کے سڑے ہوئے گندے بدبودار پانی سے اٹھنے والی ہوا نے فضا کو ایسا مکدر بنا دیا تھا کہ بیٹھنا مشکل تھا۔۔
لیکن یہ ساری پریشانیاں سعودی عرب میں آسائش سے بھری زندگی سے کہیں زیادہ خوبصورت اور پرسکون لگ رہی تھی ۔ عصر کے بعد سورج کی تپش کم ہوئی لوگ بازار جانے لگے میں بھی دوستوں کے ساتھ بازار گیا جب سے رفیق چچا نے نہر پر دوکان بنوایا ہے گاوں کے بیشتر لوگ وہیں رکتے ہیں ڈاکٹر راشد صاحب کا دواخانہ بھی وہیں ہے دواخانے پہ گیا تو ڈاکٹر صاحب ہاتھ میں اخبار لئے سو رہے تھے دوا لینی نہیں تھی اس لئے نیند میں خلل ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔
سموسہ کھانے کا دل تھا، سالوں سے سعودی عرب کا کبشہ “کھپسا” کھا کر زبان زنگ آلود ہو چکی تھی وہاں انڈیا کی طرح کباب ، سموسے ، پکوڑے مشکل سے ہی ملتے ہیں اگر ملتے بھی ہیں تو سموسے میں اوم کار بھیا والا ذائقہ نہیں ہوتا سیدھے مویشی خانہ پر اومکار بھیا کی دوکان پر پہونچا تو سموسہ ختم تھا لیکن کچھ لوگ لائن میں کھڑے تھے دیکھا تو دوسری کڑھائی میں گرم گرم نکلنے والا تھا میں بھی لائن میں کھڑا ہو گیا اتنی دیر میں ایک اور لڑکا میرے سامنے اسپورٹ شوز ، ٹائٹ فیٹنگ جینس ٹی شرٹ اور نیلے شیشے والا چشمہ لگائے میرے سامنے کھڑا ہو گیا ساتھ میں اسکی نئی نویلی بیوی بھی تھی ہیروہونڈا کے دونوں شیشوں پر گلابی کا رنگ کا جھالر دار بندھا ہوا رومال بتا رہا تھا اسی لگن میں شادی ہوئی ہے تب تک سموسہ بھی آگیا اس نے تیز آواز سے کہا بھیا مجھے بھی 10 ڈیجیٹل سموسے دے دو میں حیرانی سے اسکی طرف دیکھا قبل اسکےکہ اس سے کچھ پوچھتا دل میں خیال آیا کہ مودی جی ڈیجیٹل انڈیا بنا رہے ہیں شاید ڈیجیٹل سموسہ بھی مارکیٹ میں آگیا ہو جب میرا نمبر آیا تو میں نے اومکار بھیا سے پوچھا یہ ڈیجیٹل سموسہ کیا ہے وہ مسکراتے ہوئے بولے سامنے مینو بورڈ پردیکھیں کیا لکھا ہے دیکھا تو انگلش میں لکھا تھا ” یہاں پرصرف ویجیٹیبل سموسہ ملتا ہے”وہ ویجیٹیبل کو ڈیجیٹل پڑھ رہا تھا۔ تب میرا شک یقین میں بدل گیا کہ واقعی دیش بدل رہا ہے-

13 لائك

17 پسندیدہ

9 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

1 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2017-08-19 02:29:09
شاہد حبیب فلاحی : بہترین تحریر، بھائی مزہ آ گیا

Commented on : 2017-09-15 11:39:04
Dr. Anjali : photo aur khabar men motabiqat naheen hai ya phir
meri samajh men naheen araha hai.?

Commented on : 2017-09-15 11:41:19
Kamran : Hausala News is famous for its unique style.

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.