؞   شانتی شندیش کی مہم "قرآن سب کے لئے " کے سلسلے میں خصوصی بات چیت
۱۳ اگست/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا

بلریاگنج (ابوالفیض ؍حوصلہ نیوز ) دعوت دین کا فریضہ اور برادران وطن تک دین کا پیغام پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ موجودہ حالات اس کام کے اور متقاضی ہیں ۔ شانتی سندیش اسی طرح کے کام کرنے کے لئے ایک ادارہ ہے ۔ بلریاگنج ، اطراف اس کے دائرہ کار کا خصوصی مرکز ہے۔ شانتی شندیش کی طرف سے ’’ قرآن سب کے لئے ‘‘ مہم جاری ہے ۔یہ مہم رمضان المبارک سے شروع ہوئی ہے اور تقریباً ۶ ماہ تک جاری رہے گی ۔شانتی سندیش کے ذمہ دار حافظ دانش فلاحی سے ابوالفیض اعظمی کی خصوصی بات چیت

سوال : شانتی سندیش کا قیام کب عمل میں آیا اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟
جواب :شانتی سندیش کا قیام ۲۰۰۸؍ میں اس وقت ہوا جب پورے ملک خصوصاً اعظم گڑھ میں دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہورہی تھیں اور اسلام کو بد نام کرنے کی پوری کوشش کی جارہی تھی ۔اس وقت چند لوگوں نے مل کر یہ مشورہ کیا کہ اگر اس وقت اپنے ہندو بھائیوں کے ذہن سے اسلام تعلق سے جو غلط فہمیاں ہیں نہ دور کی گئیں تو آئندہ حالات بگڑ سکتے ہیں ۔
سوال :آپ لوگ اتنے دن سے غیر مسلم بھائیوں میں دعوت کا کا م کررہے ہیں ۔آپ نے ان کے تعلق سے کیا محسوس کیا ؟
جواب :ہم تقریباً۸ سال سے غیر مسلم بھائیوں کے درمیا ن کام کررہے ہیں اور ابھی تک تقریباً۱۸۰۰۰قرآن اور بہت سی کتابیں تقسیم کرچکے ہیں ۔ہم نے یہ محسوس کیا کہ انھیں اپنے مذہب کے بارے کچھ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے مذہب کے تعلق سے کچھ جاننا چاہتے ہیں ۔اس کے بجائے اسلام کے بارے میں وہ بہت کچھ جاننا چاہتے ہیں ۔یہ صرف پروپگنڈہ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
سوال :آپ کے کا م کرنے کا طریقہ کیا ہے خاص طور پر ہندوبھائیوں کے اندرکس طرح دعوت دیتے ہیں ؟
جواب :ہم حالات کے حساب سے اپنے دعوت دینے کے طریقے بدلتے رہتے ہیں ۔جب شانتی سندیش کی شروعات ہوئی تھی اس وقت ہم اسکولوں کالجوں اور سرکاری دفتروں میں جاتے تھے وہاں پر طلبہ اور ذمہ داران سے ملاقات کرتے اور اپنی بات رکھتے تھے ۔دوسری مرتبہ ہم نے یہ شروع کیا کہ جب بڑے بڑے میلے یا سمیلن ہوتے ہم اس میں بک اسٹال لگاتے تھے اور مفت میں قرآن اور کتابیں تقسیم کرتے تھے۔ہم نے جو تیسرا طریقہ اختیار کیا وہ اس طرح کی مہم ’’ قرآن سب کے لئے ہے ‘‘ شروع کیا ہے کہ اب ہم ہر دروازے جاتے ہیں اور گھر والوں سے ملاقات کرتے ہیں اور اپنی بات رکھتے ہیں ۔اس کے علاوہ ہم ٹرینوں میں اور بسوں میں اسٹیکر وغیرہ لگاتے ہیں ۔ان سے جو فون آتے ہیں ،اگر وہ ۱۰،۱۵ کلو میٹر کی دوری پر ہوتے ہیں تو ان کے گھر جاکر خو د سے قرآن شریف وغیرہ دیتے ہیں نہیں تو ڈاک کے ذریعہ بھیج دیتے ہیں ۔
سوال :آپ پہلی ملاقات میں ہی قرآن شریف دیتے ہیں یا کچھ اور بھی کرتے ہیں؟
جواب :ہم پہلی ملاقات میں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے بارے میں کیا جانتے ہیں ،جو جانتے ہیں وہ کتنا غلط اور کتنا صحیح ہے ۔ان کے زیادہ تر جو سوالا ت ہوتے ہیں وہ گائے کے گوشت کے بارے میں ،اسلام میں پردے کے بارے میں ،شادی کے بارے میں اسی طرح کے سولات ہوتے ہیں ۔اس کے بعد ہم ان کے سوالات کا جواب دیتے ہیں اور اس پر بھی غور کرتے ہیں کہ انھیں کیا دینا ہے صرف قرآن شریف یا کتابیں ۔
سوال : آپ لوگوں نے کچھ کتابیں خاص کی ہیں یا جو سمجھ میں آتی ہے دے دیتے ہیں ؟
جواب : ہم نے چند کتابیں خاص کی ہیں جو قرآن شریف کے ساتھ دیتے ہیں ۔جیسے ڈاکٹر ذاکر نائک کی کتاب ’’ غلط فہمیوں کا نوارن ‘‘ ہندی ،سوامی لکشمی شنکر اچاریہ جی کی کتاب ’’ اسلام آتنک یا آدرش ‘‘ ہندی ، بھوپال منگل جی کی کتاب ’’ پوتر قرآن میں مانوتہ کی سکچھہ ‘‘ ہندی ،ڈاکٹر رجندر جی کی کتاب ’’ اسلام ایک ایشوریہ دھرم ‘‘ ہندی ، کلیم الدین صدیقی صاحب کی کتاب ’’ آپ کی امانت آپ کی سیوا میں ‘‘ ہندی ،نسیم غازی صاحب کی کتاب ’’ اذان نماز کیاہے ‘‘ ہندی ،مولانا مودودی صاحب کی کتاب ’’شانتی مارگ ‘‘وغیرہ ۔یہ وہ کتابیں ہیں جو ہم لوگوں کو دیتے ہیں ۔
سوال : یہ جو آپ مہم منا رہے ہیں ’’قرآن سب کے لئے ‘‘اس کا مقصد کیا ہے ۔یہ صر ف غیر مسلم بھائیوں کے لئے ہے یا اس سے آپ اپنے مسلمان بھائیوں کو بھی کچھ پیغام دینا چاہتے ہیں ؟
جواب : یہ مہم رمضان المبارک سے شروع ہوئی ہے اور اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ آج کل جو چھوٹے موٹے بیانا ت کے ذریعہ مسلمانوں کی گمرا ہ کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔انھیں اپنے دین سے جوڑا جائے ۔مثال کے طور پر ابھی سونو نگم کے اذان کے تعلق سے بیانا ت ۔ ہم اس سے اپنے مسلم بھائیوں کو قرآن اور سیرت کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں ۔دوسری بات مسلم بھائیوں کے تعلق سے یہ بھی ہے کہ یہ قرآن صرف وہ لوگ پڑھ سکتے ہیں جو عربی جانتے ہیں یا مدارس سے فارغ ہیں ۔یہ جو سوچ ہے اس سوچ کو بدلنے کے لئے بھی ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے ۔اس کے ہندو بھائیوں میں دعوت کا کا م کرتے ہی ہیں ۔
سوال : اس مہم کے لئے آپ نے کچھ علاقہ خاص کیا ہے یہ پورے ملک میں ہے ؟
جواب : اس مہم کے لئے ہم نے اعظم گڑھ کا اتری علاقہ جس میں تین بلاک بلریا گنج ،رونا پار اور مہاراج گنج کو خاص طور پر شامل کیا ہے ۔ہم ہفتے میں جمعہ کے روزکسی بلاک کے ایک گاؤں کا انتخاب کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ گاؤ ں کے اندر مسلم آبادی بھی ہے۔ وہا ں جاکر جمعہ کی نماز ادا کرتے ہیں اور میری کوشش یہ رہتی ہے کہ میں ہی نماز پڑھاؤں نماز کے بعد تعارف وغیرہ کے بعداپنی بات رکھتے ہیں ۔ہم اپنے ساتھیوں کی ۶،۶ کی ٹولی بنا تے ہیں ۔ایک ٹولی میں لڑکے زیادہ ہوتے ہیں اور دوسری میں تجربہ کا ر اور عمر دراز ہوتے ہیں ۔لڑکوں والی ٹولی مسلم بھائیوں کے دروازے پر جاکر بات کرتی ہے ۔تجربہ کار لوگوں کی ٹولی اپنے ہندو بھائیوں کے دروازے پرجاتی ہے ۔
سوال : آج کل پورے ملک کا ماحول مسلمانوں کے حق میں خراب چل رہا ہے اس سے آپ کو پریشانی نہیں ہوتی ؟
جواب : ماحول خراب ہونے کی جہاں تک بات ہے تو میری سمجھ میں یہی آیا کہ ماحول صر ف سوشل میڈیا پر ہی خراب ہے ۔آج گاؤں کا ایک عام آدمی جسے صرف اپنی اور اپنے گھر والوں کی فکر ہے وہ اسلام کے بارے میں اور مسلمانوں کے بارے میں وہی خیالات رکھتا ہے جو اس کے ذہن میں بچپن سے تھے ۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس سے نوجوان طبقہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے ۔لیکن اس کا یک مثبت فائدہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں میں بھی اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے اور یہی موقع ہے ان کا تشفی بخش جواب دینے کا ۔جو ہم اور بہت سے لوگ کر رہے ہیں ۔اگر انھیں تسلی بخش جوابات نہیں ملے تو ان کی غلط فہمیاں نفر ت میں بدل جائے گی جو نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ سماج کے لئے فائدہ مند ثابت نہ ہوگی ۔

1 لائك

5 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.