؞   ماسٹر بھیّا
۱ مئی/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: عزیز الرحمن

سنجرپور کا شمار اعظم گڈھ کے بڑے گاؤں میں ہوتا ہے اور یہاں بھی ایک نام کے کئی لوگ پائے جاتے ہیں۔ پر اسے حسنِ اتفاق سمجھیے یا علامہ اقبال یا پھر اپنے ہمسایہ اقبال سہیل سے ہمارے بزرگوں کی محبت کہیے کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد آزادی کے کچھ سالوں بعد تک کئی مولود اقبال کے نام سے مقبول ہوئے اور جب ان کی تعداد ایک کرکٹ ٹیم تک پہنچنے کو ہوئی تو مجبوراً ان کی شناخت کے لیے ہر نام کے ساتھ عرفیت کا ایک سنہری تمغہ بھی لگانا پڑا۔ یہ تمغے اپنے آپ میں اتنے دلکش اور خوبصورت تھے کہ اس کی خوبصورتی کے آگے خود ہر ”اقبال“ مائل بہ زوال نظر آتا۔ پہلے کے لوگوں کی ذہانت اور ان کے جمالیاتی معیار کا اعتراف دل کی گہرائی سے کرنا پڑتا ہے کہ ہر تمغہ اپنے صاحبِ تمغہ کی شخصیت کے ساتھ کچھ یوں چسپاں ہوا کہ اگر بزور اخلاقیات اسے نوچ کر پھینک دیا جاتا تو یقینا پورا وجود گمنامی کے اندھیروں میں گم ہوکر رہ جاتا۔
سنگاپور سے واپس ہونے کے کچھ دنوں بعد اقبال بھیّا مدرسة الاصلاح میں انگریزی پڑھانے لگے اور اس طرح وہ ”ماسٹر اقبال“ کے نام سے جانے جانے لگے۔ میں غالباً سات آٹھ سال کا تھا کہ جب بھیّا اپنے زمانہ اقبال میں پورے جاہ و جلال کے سا تھ جلوہ گر ہوئے تھے۔ جمعہ کا دن تھا اور بعد نماز جمعہ وہ والد صاحب کے پاس تشریف لائے۔ صحت اور خوبصورتی کا ایک بہترین مظہر بن کر۔ قد و قامت بھی ایسی کہ کوئی بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ عقابی آنکھوں کو کشادہ دمکتی ہوئی پیشانی بلا کی چمک عطا کر رہی تھی۔ خال و خد کی سرخیوں سے لہو کے ٹپک جانے کا گماں ہوتا تھا۔ چہرے سے سنجیدگی و متانت، وقار و تمکنت، رعب اور دبدبہ پوری طرح عیاں تھا۔ بھرے بھرے ہاتھ پاؤں سے توانائی بھرپور جھلک رہی تھی۔
سامنے امرود کا درخت تھا اور بطور ضیافت پکے اور ادھ پکے کچھ تازہ امرود والد صاحب کے کہنے پر ان کے سامنے رکھ دیے۔ ہلکا سا قہقہہ لیے مسکراہٹ کے ساتھ وہ ابا مرحوم سے باتیں کرتے رہے اور امرود کھاتے رہے۔
اس وقت ہمیں قطعاً پتہ نہ تھا کہ یہ خوبصورت پہلوان نما مہمان ہم جیسوں کا شرارتی دم خم نکالنے کے لیے وارد ہوا ہے۔ اس سے پہلے ہم لوگ کانپور رہتے تھے اور گاؤں کے بہت سارے لوگوں کی طرح بھیّا کے بارے میں بھی ہمیں کوئی علم نہ تھا۔ مگر جلد ہی یہ احساس ہوگیا کہ ماسٹر صاحب اور ابّا کے درمیان تعلقات اتنے ٹھوس ہیں کہ اس نفس ناتواں پر دھونس جمانے کا دونوں کو برابر حق حاصل ہے اور پھر نہ جانے بھیّا نے ابا کو کس طرح ورغلایا کہ چند سالوں بعد انھیں کے سا تھ مجھ کو بھی مدرسة الاصلاح میں دھکیل دیا گیا۔ بے بسی سے بھرے غصہ کے ساتھ اس مظلوم کو ان کے حکم کی تعمیل کرنا پڑی۔
پھر کیا تھا گھر سے لے کر مدرسہ تک ایک آہنی حصار قائم کردیا گیا۔ ڈانٹ ڈپٹ اور پھٹکار کا ایک سلسلہ لامتناعی شروع ہوگیا۔ کم بخت، بدتمیز، بیہودے، بے شرم، الّو کے پٹھے، نا معقول، ناہنجار، شتر بے مہار اور کندئہ ناتراش جیسی بھاری برسات پوری چمک، گرج اور کڑک کے ساتھ ہونے لگی، اور اس بارانِ مسلسل سے فیضیاب ہونے والوں میں ایک میں ہی تنہا خوش نصیب نہ ہوتابلکہ مدرسہ کے تمام تشنگانِ علم و فن اور محلہ، گاؤں کے سارے الّھڑ مستانے حتی کہ سلیقہ مند فرزانے بھی اس موسلا دھار بارش کے میٹھے قطروں سے اپنا تلخ غصہ گھونٹتے تھے۔
بال چھوٹے رکھو، لنگی اوپر باندھو، ٹخنے کھلے رکھو، پاؤں گھسیٹ کر نہ چلو ، یہ نہ کرو وہ نہ کرو، ادھر نہ اٹھو ادھر نہ بیٹھو۔ توبہ! توبہ! قدم قدم پر ہم بچوں پر سیکڑوں تنبیہات۔ آزاد ہندوستان میں یہ غلامانہ بندشیں! بہت کوفت ہوتی تھی۔ کبھی کبھی جھنجھلاہٹ میں زیر لب کچھ بدبدا بھی دیا کرتے۔ اتنی ہمت تو نہ تھی کہ روبرو ہوکر کوئی سوال کرتے، کچھ اعتراض کرتے۔ بس منھ بسور لینا، تھوڑا ٹیڑھے ہوجانا، یا ہلکے سے منمنا دینا۔ ری ایکشن میں اتنا ہی ہوتا۔ یہاں نیوٹن کا فارمولہ ردِّ عمل بھی رد ہوجاتا۔ بلکہ کبھی کبھی ”ابھی سینہ پر چڑھ کر ماروں گا“ کی ایٹمی دھمکی سے ہم اتنا سہم جاتے کہ بدن یا ہونٹوں کو جنبش بھی نہ دے پاتے۔ علم کے کئی جانباز سپاہی اس جان لیوا حملے کے خوف سے محاذِ علم ہی چھوڑ کر بھاگ بیٹھے۔
بھیّا کے بہترین استاد ہونے کے سبب یا پھر ان سے ڈرنے کی وجہ سے پہلے ہی سال مجھے اتنی اچھی انگلش آنے لگی کہ میں اگلے کلاسوں کی کتابیں بھی بآسانی پڑھ سکتا تھا۔ پڑھنے میں جب میں نے کچھ کمال کردکھایا تو بھیّا پہلے کی بہ نسبت میرے تئیں کچھ نرم پڑ گئے لیکن پھر بھی جہاں موقع ملتا رعب جھاڑنے میں کوئی کمی نہ برتتے۔
عشاءکی نماز کے بعد عموماً لوگ دروازے پر بیٹھتے۔ اس وقت میل جول کا عالم یہ تھا کہ پورا دروازہ چارپائیوں سے بھرا رہتا۔ گرمی کی وجہ سے گھروں کے دروازے کھلے چھوڑ دیے جاتے۔ کتّے کے چلے جانے کا ڈر تو ضرور رہتا مگر کسی چور کے گھسنے کا دور دور تک اندیشہ نہ ہوتا۔ بی بی سی کا نشریہ بھیّا محلہ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بہت انہماک سے سنتے۔ پھر سیربین پر لوگوں کے اپنے تبصرے اور تجزیے ہوتے۔ بھیّا سب سے زیادہ پڑھے لکھے تھے اور دنیا بھی دیکھ رکھی تھی اس لیے وہی سب سے زیادہ گفتگو میں حصہ لیتے۔
کبھی کبھی سنگاپور کی باتیں چھڑ جاتیں سب لوگ سنتے اور لطف اندوز ہوتے۔ اور ہم کم عمر تو ہمہ تن گوش کبھی نہ رہتے البتہ گونگے ہمیشہ بنے رہتے۔ اور دل ہی دل میں یہ دعا کرتے رہتے کہ جلد یہ لوگ اٹھیں تاکہ ہم لوگ اپنی ٹانگیں پسار سکیں۔ نیند کے غلبہ سے بوجھل ہماری آنکھیں ان سے رحم کی اپیل کرتی رہتیں اور جیسے ہی ان کے غاصبانہ تسلط سے ہم کو نجات ملتی آزادی کے احساس کے ساتھ فوراً یوں دراز ہوجاتے جیسے میلوں کا سفر طے کر آئے ہوں اور پھر چند ہی لمحوں میں اپنے آپ کو ہم پوری طرح مچھروں کے حوالے کردیتے۔
ہمارے محلہ کی مسجد صرف عبادت کی جگہ نہ تھی بلکہ ہم محلہ والوں کے لیے کھلا غسل خانہ بھی تھی”کھلا“ اس لیے کہ کوئی باقاعدہ غسل خانہ نہ تھا اور برائے نام تھا بھی تو استعمال نہ ہوتا تھا۔ وضو خانہ ہی میں ہم کپڑے دھلتے اور ہینڈ پائپ کے نیچے بیٹھ کر لوٹے سے نہا لیتے۔ بھیّا بھی مسجد کی تعمیر نو تک یہیں نہاتے رہے۔ بلکہ اکثر ہم لوگوں کو ان کے لیے احتراماً ہینڈ پائپ بھی چلانا پڑتا اور جب کبھی ایک بار پائپ چلانے میں پلاسٹک کا بڑا لوٹا نہ بھر پاتا تو ہمیں اپنی ناتوانی کا طعنہ بھی سننا پڑتا۔
پہلے لوگ شیروانی بہت کم پہنتے تھے بلکہ اکثر تو اپنی شادی ہی کے موقع پر وہ بھی مانگ کر پہنتے تھے۔ ایک تو شادی کا تاریخی موقع جو عموماً اپنے یہاں ایک ہی بار بمشکل میسر ہوتا ہے اور دوسرے بے سائز کی وہ بھی پہلی بار پہنی جانے والی شیروانی۔ ہائے! دولہے کا حلیہ کتنا قابل دید ہوتا تھا اس معصوم کی صورت کیسی پیاری سی لگتی تھی۔ میرے مشاہدہ میں ماسٹر بھیّا گاؤں کے واحد شخص تھے جنھوں نے سب سے زیادہ شیروانی کا استعمال کیا۔ کوئی بھی موسم ہو کوئی بھی تقریب ہو بھیّا شیروانی ضرور پہنتے اور ان کے جسم پر شیروانی بھی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ لیکن بھیّا کا یہ صرف رکھ رکھاؤ تھا ورنہ سادگی کا عالم یہ تھا کہ بہت دنوں تک وہ گھر سے مدرسة الاصلاح ہم لوگوں کی طرح سائیکل چلا کر آتے جاتے تھے۔
یوں تو مدرسہ کے تمام اساتذہ¿ کرام سے بھیّا کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ مولانا احتشام احمد صاحب اصلاحی اور مولانا عبد المجید صاحب اصلاحی مرحومین جیسے عظیم صدور کے وہ بہترین مشیر و معاون رہے۔ پر مولانا انیس احمد صاحب اصلاحی سے بھیّا کا یارانہ تھا اور اس یاری میں رنگ بھرنے کو ان کے مابین ایک رشتہ¿ ہم مشربی بھی تھا اور یہ یارانِ باوفا جب کبھی درسگاہ سے نکل کر کسی گوشہ¿ عافیت میں ماسٹر اشتیاق احمد صاحب مرحوم کی محبت میں اپنے پھیپھڑے جلا کر ان کے کاروبار کو جلا بخشتے تو اپنے ناقص مطالعہ کے آئینہ میں مولانا آزاد اور مسٹر جناح کا عکس ابھرتا نظر آتا۔
ماسٹر بھیّا کا یہ طرہ¿ امتیاز تھا کہ اس عمل سے شغف رکھنے کے باوجود اس کے حصول کے لیے اسراف سمجھ کر، کبھی ایک پائی بھی نہ خرچ کی۔ اس سلسلہ میں ایک پرلطف واقعہ یاد آتا ہے اگر طول بیانی گراں نہ گذرے تو من و عن آپ کو بھی سناتا چلوں۔
رمضان کے مہینہ میں تراویح کے بعد بھیّا، ڈاکٹر شمیم بھائی، فیاض بھائی اور نجم الدین ایوب عرف کٹّو بھائی گھر پر اکٹھا ہوتے۔ افطار کی باقیات کا پوسٹ مارٹم ہوتا اور پھر چائے کے دور کے بعد دن بھر کی تکان کافور کرنے کو اجتماعی طور پر دھواں کیا جاتا جس کے سرور بخش مرغولے میں عالمی مسائل تحلیل کیے جاتے۔ ڈاکٹر صاحب اپنی فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے، اس اندیشہ سے کہ کہیں دھواں دینے والے پتے آئندہ کل لانا بھول نہ جائیں، اس کا ایک اضافی بنڈل اینٹ کی دیوار کے شگاف میں ٹھونس دیتے اور دوسرے روز اس بنڈل کو بوسیدہ ہونے سے بچانے کے لیے نکال کر استعمال کرلیتے اور اس کی جگہ ایک نیا بنڈل رکھ دیتے۔ آخری عشرہ میں مجھے کہیں جانے کی ضرورت پڑ گئی اور میں نے اراکین مجلس سے اپنی ہونے والی غیر حاضری پر معذرت کا اظہار کیا جسے لوگوں نے بخوشی قبول کرلیا۔ اب سوال یہ اٹھا کہ اس پس انداز کیے ہوئے تازہ اضافی بنڈل کا آخر کیا ہو؟ ڈاکٹر صاحب نے برجستہ کہا ”اقبال بھائی کو فی سبیل اللہ دے دیجیے۔“ اس جملہ پر بشمول بھیّا پوری محفل قہقہوں میں ڈوب گئی۔ پھر بھیّا نے تھوڑے ہی دنوں بعد اس پر فریب سہارے کو پوری طرح خیر باد کہہ دیا۔
وہ اکثر اپنی باتیں اور منصوبے ہم چھوٹوں سے بھی شیئر کرلیتے۔ یہی وجہ تھی کہ شبلی کالج میں ان کے پڑھانے کی خواہش ان کے شبلی کالج میں تقرری سے تقریباً دس سال پہلے ہی ہم لوگوں کو معلوم ہوگئی تھی۔ بھیّا نے نفسیات میں ڈاکٹریٹ کیا تھا اور وقتاً فوقتاً وہ ہمارے نفسیاتی خلل کو سمجھ لینے کا دعویٰ بھی کرتے اور واقعتاً وہ سمجھ بھی لیتے۔ حق فہمی کی صلاحیت حق گوئی کی جرا¿ت سے زیادہ تھی۔ کبھی کبھی کسی مسئلہ پر ان کی خاموشی ہمارے لیے حیران کن ہوتی، ا یسا لگتا کہ جیسے کسی کی دل آزاری سے بچنے کے لیے یا اس کے ناراض ہوجانے کے اندیشہ سے اپنی رائے کا کھل کر اظہار نہیں کر پارہے ہیں۔ شاید گرد و پیش کے ماحول اور عمر کے تجربات نے انھیں یوں محتاط رہنے پر مجبور کردیا تھا۔
ماسٹر بھیّا نماز کا اہتمام بہت اچھی طرح کرتے تھے اکثر امامت وہی کرتے۔ حافظ، قاری تو نہ تھے لیکن آواز بہت اچھی تھی اور قرا¿ت میں ایک عجیب طرح کی مٹھاس کا احساس ہوتا تھا۔ طبیعت کی خرابی کے باوجود وہ مستقل مسجد آتے۔ رمضان کے مہینے میں وہ افطار بھی مسجد ہی میں کیا کرتے۔ تراویح کی بیسوں رکعات پوری پابندی سے پڑھتے اور آخری عشرہ میں قیام اللیل کی جماعت میں بھی شامل ہوتے۔ گھٹنے کی تکلیف زیادہ بڑھتی تو گھر سے مسجد کا مختصر راستہ اپنی موٹر سائیکل سے طے کرتے۔ ادھر چند سالوں سے ان کے تئیں ہم لوگوں کی محبت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ بھابھی کی مستقل علالت، خود کئی طرح کی جسمانی پریشانیوں سے دوچار اور سب سے بڑھ کر کسی ا ولاد کا نہ ہونا، اور ان آزمائشوں پر اس طرح صبر کرنا کہ بٹلہ ہاؤس کے ہنگامے سے لے کر گاؤں کے ہر طرح کے مسائل میں بھرپور حصہ لینے میں اپنی ان ذاتی مشکلات کو پوری طرح پرے ڈال دینا- واقعی بڑی ہمت اور حوصلہ کا ثبوت دیتے تھے۔
میں یہ دعویٰ تو نہیں کرسکتا کہ وہ سب کو بہت اچھے لگتے تھے مگر میری دانست میں ان کی ذات سے گاؤں سے لے کر مدرسہ تک کسی کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اگر پہنچا بھی ہوگا تو اتنا ہی جتنا کسی اچھی سے اچھی غذا کا سائیڈ ایفیکٹ ہوا کرتا ہے۔ خیر دوسروں کی باتیں دوسرے جانیں لیکن مجھے ذاتی طور پر اس اعتراف میں کوئی تامل نہیں کہ بھیّا ہمارے بھیّا ہمارے لیے بہت اچھے تھے جو ہم تمام چھوٹوں کے لیے ہمیشہ ہلکان و پریشان ہوتے رہے۔ گلی، کوچہ، گھر بازار اور مسجد سے لے کر مدرسہ تک ہمارے لیے اپنی توانائی صرف کرتے رہے، اور اس کے صلہ میں بسا اوقات ہماری اور ہمارے اپنوں کی طرف سے ناخوشگوار اور تکلیف دہ ردِّ عمل بھی سہتے رہے۔
اور آج جب کہ وہ اس جہاں سے آناً فاناً کوچ کر چلے ہیں کتنی شدّت سے یہ احساس ابال مارتا ہے کہ اب تک تو کوئی تھا جو ہمارے بارے میں فکر مند رہتا تھا، جسے ہمارے بھلے دنوں کی آرزو تھی، جو ہمارے اچھے برے کا ہمیشہ خیال رکھتا تھا، اب کون بات بات پر ٹوکے گا؟ کسے قدم قدم پہ ڈانٹنے کی ضرورت محسوس ہوگی؟ اور کون ہمارے بارے میں سوچنے کی فرصت رکھے گا؟ کم عمری میں پڑنے والی بھیّا کی وہ ساری ڈانٹ پھٹکار جو پورے بدن میں آگ لگا دیتی تھیں اس وقت یاد آکر کیسے آنکھوں کا پانی نکال رہی ہیں۔
یہ ہماری کمی ہے کہ جب تک کوئی شخص یا چیز پاس موجود رہتی ہے اس کی خاطر خواہ قدر نہیں کرپاتے۔ اس کو وہ اہمیت اور مقام نہیں دے پاتے جو اس کا اصلی حق ہوتا ہے، اور پھر جب وہی کھو جائے تو پھر بہت واویلا مچاتے ہیں، بہت شور شرابا کرتے ہیں۔ رہنے پر سیکڑوں شکایتیں اور نہ رہنے پر ہزار تعریفیں ہوتی ہیں۔ جس طرح کسی کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ہم صرف اس کی ا چھائیاں دیکھتے ہیں کتنا اچھا ہو کہ دنیا میں رہنے پر بھی ہم اس کی کمیوں کو نظر انداز کرتے رہیں۔


3 لائك

4 پسندیدہ

1 مزہ آگیا

4 كيا خوب

1 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2017-05-02 02:24:52
waris : شاندار مضمون۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔

Commented on : 2017-05-03 02:34:32
Abu Zaid : Oh! keya khoob leekha likha hai aap ne.
Allaha Master sahab ki Maghferat farmaye.

Commented on : 2017-05-04 00:27:40
معتصم باللہ : بهت عمدہ
کیا خوب منظرنامہ پیش کیا هے، چچا مرحوم (مولوی عبدالمجید ندوی) کی مجالس میں ڈاکٹر صاحب "مرحوم" کی ضیافت و خدمت کا موقع همیں بهی میسر هوا هے، آج آپ کے مضمون کو پڑهہ کر مجهے اپنے بچپن کا وہ حسین دور نظر آرها جس میں ڈاکٹر اقبال صاحب مرحوم ایک مربی اور سرپرست کی حیثیت رکهتے تهے-

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.