؞   صفدربھیا کی یاد میں: دیوانہ مر گیا آخر تو ویرانوں پہ کیا گَزری
۲۳ فروری/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
اختر سلطان اصلاحی
صفدر بھیا، پروفیسر صفدر سلطان اصلاحی کو دنیا سے رخصت ہوے پانچ دن ہوگئے وہ 18 فروری بروز سنیچر علی گڈھ سے دہلی جاتے ہوے ایک کار حادثے میں شھید ہو گئے. مگر آج بھی انھیں مرحوم لکھتے اور کہتے ہوے کلیجہ منہہ کو آتا ہے. دل کو جیسے اب بھی یقین نہیں آتا کہ یہ وقوعہ ہو چکا ہے مگر قضا وقدر کے سامنے کسے دم مارنے کی مجال ہے.
حقیقت کو جھٹلانے سے اس کی سچائی پر تو کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے.
مرحوم بھیا ہمارے 9 بھائی بہنوں میں تیسرے نمبر پر تھے، ان کی پیدائش والدین کی بڑی دعاؤں کے بعد ہوئی تھی، وہ عمر میں مجھ سے 11 سال بڑے تھے، جب سے میں نے ھوش سنبھالا انھیں والدین کا چہیتا اور دلارا پایا.والدہ انھیں اپنے تمام بچوں سے زیادہ چاہتی تھیں. بھیا بچپن ہی سے بہت سنجیدہ، محنتی، نیک اور والدین کے فرمانبردار تھے. انھیں بچپن میں بھی کھیل کود اور لغویات سے کوئی دلچسپی نہ تھے. ہر وقت پڑھنے لکھنے، دینی جماعتی اور تحریکی سرگرمیوں میں شریک رہتے. بچپن ہی سے اچھے مقرر تھے، مدرسۃ الاصلاح کی بزم طلبہ اور لاہی ڈیہہ کی جامع مسجد ان کی تقریروں کی ابتدائی جولان گاہیں تھیں. میں اپنے بچپن میں انھیں لاہی ڈیہہ بازار کی جامع مسجد میں تقریر کرتے دیکھتا تو بڑا فخر اور خوشی محسوس کرتا اور انھیں جیسا مقرر بنے کی کوشش کرتا.
مدرسۃ الاصلاح سراےمیر میں ان کی شہرت ایک ذہین، محنتی اور باصلاحیت طالب علم کی تھی. وہ مدرسے میں مولانا صادق حسین کشمیری، مولانا ایاز اصلاحی، مولاناابوطلحہ اصلاحی، ڈاکٹر فیضان اصلاحی، ڈاکٹر علاء الدین اصلاحی، ڈاکٹر ابوسفیان مطری وغیرہ کے ھم درس تھے. غالبا وہ مدرسے سے19 83، 84 میں فارغ ہوے اور اعلی تعلیم کیلئے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں داخل ہوے اور ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں.جلد ہی انھوں نے اپنی بہترین صلاحیت اور جدوجہد کی بدولت گورنمنٹ سے اسکالرشپ بھی حاصل کی.
1997 میں حکیم اجمل خان طبیہ کالج علی گڈھ میں ان کا تقرر بحیثیت لیکچر ہوا، چند ماہ پہلے ہی انھیں پروفیسر شپ کے عہدے پر تقرری ملی تھی.
تعلیم وتعلم کے بعد صفدر بھائی کا سب سے اہم میدان تحریک اسلامی کی سرگرمیاں تھیں، وہ نوجوانی ہی میں طلبہ تحریک SIO کے ممبر بن گئے تھے وہاں انھوں نے مختلف حیثیتوں سے خدمات انجام دیں اور آل انڈیا سکریٹری جنرل کے مقام تک پہنچے، بعد میں وہ جماعت اسلامی ھند کے رکن بنے اور مختلف ذمہ دارانہ عہدوں سے سرفراز ہوے، فی الحال وہ جماعت اسلامی حلقہ یوپی کی شوری کے رکن اور جماعت کی نمائندگان کے ممبر تھے. علی گڈھ کے مشہور تحقیقی وتصنیفی ادارے ادارہ تحقیقات و تصنیفات اسلامی علی گڈھ کے وہ گزشتہ 10 سالوں سے سکریٹری تھے.
سردست میرا موضوع ان کی تحریکی وتعلیمی سرگرمیاں نہیں بلکہ شخصی اوصاف وأحوال ہیں، تحریکی و علمی خدمات پر ان کے احباب اور تحریکی ذمہ داران بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں.
ان کی ذاتی زندگی سادگی، کفایت شعاری، حق گوئی، اصول پسندی، محنت اور سخت نظم وڈسپلن سے عبارت تھی.
ابتدائی زندگی مالی اعتبار سے بہت خوشگوار نہیں تھی. ان کی علی گڈھ آمد کے ساتھ ہی والد مرحوم مختلف امراض وعوارض میں مبتلا ہو گئے تھے. اسی لیے بھیا کو دوران تعلیم بھی کئی بار مختلف معاشی سرگرمیاں انجام دینی پڑیں. یونیورسٹی سے اسکالرشپ ملنے کے بعد وہ ایک متعین رقم پابندی سے گھر بھیجنے لگے تھے. گرچہ انھیں یونیورسٹی میں مستقل ملازمت 1997 میں حاصل ہوئی تھی مگر وہ 1988 ہی سے اہل خاندان کی مالی معاونت کرنے لگے تھے.
یہ سلسلہ والد مرحوم کی وفات اکتوبر 2014 تک بلا ناغہ جاری رہا. والد محترم کے بعد بڑے بھائی ابو طلحہ صاحب جب ایک حد تک فارغ البال اور معاشی طور پر بہتر ہوے تو گھر پر ہر ماہ پابندی سے رقومات بھیجنے کا سلسلہ بند ہوا. مگر چھوٹے بھائی شوکت کی مستقل مالی معاونت کرتے رہے. اسی طرح شادی بیاہ، عید بقرعید اور دوسری تقریبات کے موقع پر تمام بھائی بہنوں کو ان کا حق حصہ بھیجتے رہتے. اس بار عید الفطر کے موقع پر بھی مجھے اور میرے بچوں کو 5000 روپے عیدی ارسال کی. گھر اور رشتہ داروں میں اگر کوئی پریشان یا بیمار ہوتا تو اس کے علاج و معالجہ کی بڑی فکر کرتے. 2014 میں جب میری اہلیہ شدید بیمار ہوئیں تو انھوں نے مجھے کافی حوصلہ دیا، سرپرستی فرمائ اور لاکھوں روپے کا تعاون بھی پیش کیا. اسی طرح کئی اعزاء کو علی گڈھ بلا کر ان کا بہترین علاج و معالجہ کروایا.
فجزاہ اللہ احسن الجزاء
ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو اعزاء خصوصا بھائی بہنوں سے ان کا والہانہ تعلق تھا. وہ ھفتے میں لازما ایک دفعہ سب کو فون کرتے اور احوال سے واقفیت کے بعد مسائل کو حل کرنے کی پوری کوشش کرتے. ان کی موت سے ان کے بچوں کے علاوہ بھائی بہنوں پر بھی ایک قیامت صغری ٹوٹ پڑی ہے. اللہ ان کو صبر دے.
وما کان قیس ھلکہ ھلک واحد
ولکنہ بنیان قوم تھدما
والدہ محترمہ ان کو بہت عزیز رکھتی تھیں. بچپن میں انھیں محبت سے دل بحال کہتیں اس لیے گاؤں میں ان کا ایک ٹوکن نام بحال
بھی تھا. وہ بھی والدہ سے شدید محبت رکھتے جب تک فون کی سہولت نہ تھی ہر ماہ کم ازکم دو خط ضرور لکھتے. گھر آتے تو کوشش کرتے کہ زیادہ وقت والدہ محترمہ کے ساتھ باتوں میں گزاریں. ان کی چارپائی کے پاس بیٹھے رہتے، طرح طرح کی باتیں کرتے رہتے اور بہت کم کہیں جاتے.
سادگی اور کفایت شعاری ان کی شناخت تھی. ان کی زندگی ہر طرح کے تکلفات اور جھوٹی شان و شوکت سے دور تھی. موٹا جھوٹا پہنتے، سادہ غذا استعمال کرتے اور عام لوگوں سے بھی گھل مل جاتے. علی گڈھ میں خود ستائی بہت عام ہے مگر وہ اس بیماری سے وہ بہت دور رہتے. شروع میں مختلف مجالس میں شریک ہوتے تھے مگر دھیرے دھیرے خلوت گزینی اختیار کر لی تھی. زیادہ تر گھر پر گزارتے اور پڑھنے لکھنے میں مشغول رہتے.
اپنے گھر میں بھی نظم و ضبط کے بہت پابند تھے، کوشش کرتے کہ ہر کام متعین وقت پر ہو اور گھر کے تمام افراد اپنی زندگی کو منظم انداز میں بسر کریں. فضولیات اور لا یعنیات سے دور رہ کر ایک بہتر زندگی گزاریں.ان معاملات میں ان کی سختی کی وجہ سے کبھی کبھی افراد خانہ شاکی ہو جاتے مگر اب سب کا احساس ہے کہ بھیا محترم کی اسی اصول پسندی اور سختی کے وجہ سے آج ماشاء اللہ ان کے تمام بچے نمایاں اور کامیاب ہیں.
گھر اور خاندان کے تمام افراد سے ان کا گہرا تعلق تھا مگر مجھ پر خصوصی عنایت اور الطاف تھا. اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ علمی اور فکری اعتبار سے میں ان سے زیادہ قریب تھا. دینی، سماجی، جماعتی اور تحریکی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر وہ مجھ سے خوب گفتگو کرتے. جب بھی میں کچھ لکھتا وہ حوصلہ افزائی کرتے. کئی دفعہ میں نے کہا بھیا کچھ نقدو تبصرہ بھی کیجیے تو مسکراتے ہوے کہتے
جو لکھتے ہو بہتر ہے مشق وممارست سے مزید نکھر جاؤ گے. بھتیجے بتاتے ہیں کہ جب کوئی منظوم کلام انھیں بھیجتا تو بچوں کو مزے لےلے کر سناتے اور سب کو بتاتے کہ دیکھو یہ تمہارے اختر چچا نے لکھا ہے.
اس دفعہ 8 فروری کو وہ وطن لاہی ڈیہہ اعظم گڈھ بھتیجے عمر ابو طلحہ کی شادی میں تشریف لاے، صحت پہلے سے اچھی تھی، نیند بھی اچھی آ رہی تھی اور خوراک بھی بہتر تھی. کئی دن گھریلو اور تحریکی زندگی کے مختلف گوشوں پر سیر حاصل گفتگو ہوئی. والد مرحوم کے بعد ابھی ترکے کی تقسیم باقی ہے وہ اس سے پہلے بھی مجھے کئی بار متوجہ کر چکے تھے اس دفعہ کہنے لگے جلدی سے تقسیم ہو جاتی تو بہتر ہوتا، کبھی کبھی ترکہ تقسیم بھی نہیں ہو پاتا کہ دوسرے ورثہ بھی رخصت ہونے لگتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل بڑھتے ہیں. کسے معلوم تھا کہ یہ معاملہ خود ان کے ساتھ پیش آ جاے گا.
ان کی وفات کی جانکاہ خبر گھر سے ہمارے دوسرے بھائی ابو طلحہ صاحب نے دی، کچھ دیر تک تو جیسے یقین نہ آیا، چند منٹ بے حس وحرکت بیٹھا رہا جیسے سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو گئی ہوں. یقین کے لیے بھتیجے عزیزم ابوذر کو فون لگایا، بھتیجے کی بے جان لرزتی آواز نے جیسے ضبط کے سارے بندھن توڑ دیے. میں گنوار دیہاتی عورتوں کی طرح چیخیں مار کر روتا رہا. ایسا لگتا تھا کہ کلیجہ سینے سے باہر آ جاے گا.
کل من علیھا فإن ويبقى وجه ربك ذوالجلال
مانڈوی ایکسپریس سے کھیڈ سے ممبئ کے لیے روانہ ہوا اور برادر محترم جناب شعیب صاحب کے ھم راہ علی گڈھ کے لیے بذریعہ جہاز روانہ ہوا.
صفدر بھیا کی وفات کی خبر پورے ملک کے دینی و تحریکی حلقوں میں انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ سنی گئی. سینکڑوں لوگوں نے تعزیت کے لیے فون کیے، شوشل میڈیا پر بھی یہ خبر چھائی رہی. علی گڈھ میں نماز جنازہ میں ایک انبوہ کثیر تھا.
ہر شخص غم زدہ تھا، ایسا لگتا تھا تعزیت کرنے والے خود تعزیت کے مستحق تھے. ہر آدمی ان کے اعلی اخلاق وکردار اور دینی و تحریکی سرگرمیوں کی شہادت میں پیش پیش تھا.
بہتے ٌآنسووں، سسکیوں اور گلوگیر آواز سے لوگوں نے انھیں رخصت کیا. ملک کے کئی شہروں میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی.
نماز جنازہ امیر جماعت اسلامی ھند مولانا جلال الدین انصر عمری صاحب نے پڑھائی. قبر پر دعا کی اپیل کرتے ہوے ان کے عزیز دوست جناب اشھد جمال ندوی صاحب یہ کہتے ہوے رو پڑے
بھائیو اس آدمی نے اپنی پوری زندگی دین اور تحریک کی خدمت میں گزار دی اور بلا آخر شہید ہوگیا. دعا کیجیے کہ اللہ اس کی شہادت کو قبول فرما لے اور جنت میں جگہ دے. آمین
ایک مومن کے لیے اللہ کی رضا اور خوشنودی سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے. صفدر بھیا نے زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کی رضا کے حصول کی کوششیں کیں اور اسی کی اپنے متعلقین کو بھی تلقین کرتے رہے. ان کا آخری سفر بھی جو سفر آخرت ثابت ہوا تحریک کے ایک ادارے کے سلسلے میں مرکز جماعت کی طرف سفر تھا. انتقال کے بعد بیگ میں موجود کچھ کاغذات میں نے بھی دیکھے ادارہ تحقیق کے لیے طویل منصوبہ بندی اور فکر مندی تھی.
اللہ غریق رحمت کرے، ان کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اور جنت میں اعلی مقام دے.
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دیوانہ مر گیا آخر تو ویرانوں پہ کیا گزری

3 لائك

5 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.