؞    ملک کی تعمیر و ترقی میں ا عظم گڑھ کی خدمات کافی اہم: پروفیسر طلعت احمد
۹ فروری/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
نئی دہلی ( پریس ریلیز ): ملک کی تعمیر و ترقی میں ا عظم گڑھ کی خدمات کافی اہم ہیں ۔یہ وہ خطہ ہے جہاں کئی عظیم ادبی شخصیات پیدا ہوئیں اور اس تعلق سے یہ بڑا ہی ذر خیز علاقہ ہے ۔ یہاں کے معروف شبلی نیشنل کالج کو منی علی گڑھ کہا جا ئے تو بیجا نہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے یہاں اعظم گڑھ کے عظیم شاعر اختر مسلمی کے فن اور اور شخصیت پر منعقدہ یک روزہ سمینار میں کیا ۔
مہمان خصوصی پرفیسر طلعت احمد نے مزید کہا کہ اعظم گڑھ ایک علمی سرزمین ہے جس نے خاص طور پر ادب میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور علی گڑھ کی طرح اس کی بھی جڑیں کافی مضبوط ہیں ۔
اس سمینار کا انعقاد انجمن طلبہ قدیم مدرستہ الاصلاح دہلی یونٹ نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے کیا۔
پروفیسر اشتیاق احمد ظلی ، ڈائریکٹر شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارا تہذیبی سرمایہ کا بھی اس میں بڑا کردار ہے جن کو دنیا نہیں جانتی ،ایسے لوگوں کا بھی اعتراف کیا جانا چاہیے ۔
پروفیسر الطاف احمد اعظمی سابق وائس چیر مین اردو اکیڈمی دہلی نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ درحقیقت اختر مسلمی حسن و عشق کے شاعر تھے اور تغزل کا شستہ مذاق رکھتے تھے ، ان کی غزلوں مٰں عصر حاضر کی ترجمانی بھی ملتی ہے ، ان کے دل مین وطن سے محبت بھی کوٹ کوٹ کر بھری تھی روایت پسندی کے ساتھ ساتھ ان کے یہاں جدیدیت بھی پائی جاتی ہے ۔ ان کا کلام فکری و فنی دونوں اعتبار سے اس لائق ہے کہ اس کو بار بار پڑھا جائے ۔
انیس احمد اعظمی نے کہ اکہ اختر مسلمی صاحب کا جو قرض ہے ہم نے ابھی ادا نہیں کیا یہ ایک شروعات ہے ، ان کے فنن کی جاودانی کو سلام کرتا ہوں ،اختر مسلمی شہزادہ غزل تھے ۔ اختر مسلمی کی سخن فہمی کا قرض پوری اردو دنیا پر ہے ۔
اس موقع پر پروفیسر ابو سفیان اصلاحی ،ڈاکٹر شفقت اعظمی ، مولانا عمیر صدیق ندوی ، پروفیسر احمد محمفوظ،ڈاکٹر محمد آصف زہری ڈاکٹر اورنگ زیب اعظمی ، ڈاکٹر عرفات ظفر ، دانش فرا ہی،ڈاکٹر شازیہ عمیر،ڈاکٹر جویریہ نیرہ وغیرہ نے مقالے پیش کیے ۔ اس موقع پر کلیات اختر مسلمی ، انجمن کی سالانہ میگزین نقش اور الطاف احمد اعظمی کا شعری مجمعوعی چارغ شب گزیدہ کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ سمینار میں تین اجلاس میں 12 مقالے پیش کیے گئے جبکہ اس کے لیے مقالہ لکھنے والوں کی تعداد 35 تک پہونچتی ہے ۔قومی راجدھانی دہلی اور ملک کی مختلف یونیورسٹیوں،اداروں اور شہروں سے اہل علم حضرات اور ادباء اس سیمینار میں شرکت کی ۔ اجلاس کی نظامت اکرام الحق ، عمیر صفیان اصلاحی و اسجد اصلاحی نے کی ۔



2 لائك

2 پسندیدہ

1 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.