؞   ذہانت، مجاہدہ اور انقلابیت کے نقیب تھے مولانا عبدالمجید اصلاحی
۱۸ جنوری/۲۰۱۷ کو پوسٹ کیا گیا
تحریر: اشہد جمال ندوی
فیس بک اور واٹس ایپ آج استاذ محترم مولانا عبد المجید اصلاحی کے انتقال پرملال اور مغفرت کی دعاؤ ں سے بھرےہوئے ہیں۔ ان کے اکلوتے بیٹے اور میرے عزیز دوست ابو نافع وطن سے بہت دور قطر میں خبر سن کر ملول ہیں، تو مولانا کی چار بیٹیاں،ایک بہو، ۲ پوتے، ۳ پوتیاں اور متعدد نواسے اور نواسیاں سرہانے اور پائتیں کھڑے بیٹھے اپنا غم چھپا رہے ہیں اور دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔ مولانا کے پسماندگان میں میرے جیسے سیکڑوں شاگرد بھی ہیں جو اس خبر سے بے حد افسردہ و ملول ہیں۔
مولانا اپنے والدین کی اکلوتے وارث تھے۔ ذاتی محنت و کاوش نے انھیں ہر زمانے میں منفرد شناخت دی۔ مدرسۃ الاصلاح کے نامور سپوتوں میں سے تھے اور نامور استاد بھی۔ یہ مدرسہ کے اس زریں عہد کی یادگار تھے جب مولانا اختر احسن اصلاحی طلبہ میں فکر فراہی کی آب یاری کر رہے تھے۔ استاذ محترم کو اللہ نے بلا کی ذہانت عطا کی تھی، محنت و جفا کشی ان کا وطیرہ تھا اور جدت و ابتکار ان کی ترجیح۔ زمانہ طالب علمی میں انہوں نے اپنا منفرد مقام پیدا کیا اور اساتذہ کی آنکھوں کا تارا بنے۔ اسی زمانے میں لکھنے اور بولنے کی مشق کی اور اچھے مقرر اور مصنف بنے۔ مدرسۃ الاصلاح سے فراغت کے بعد لکھنؤ کا رخ کیا اور تکمیل الطب طبیہ کالج سے طب کی تعلیم مکمل کی۔ یہاں بھی دوران تعلیم ایسے کمالات دکھائے کی اساتذہ و انتظامیہ سشدر رہ گئے۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد مئو ناتھ بھنجن اور دیگر مقامات پر پریکٹس بھی کی۔
مولانا محترم عربی زبان و ادب کا خاص زوق رکھتے تھے۔ جاہلی ادب پر غضب کی قدرت تھی۔ جاہلی شعرا کے بڑے بڑے قصائد ازبر یاد تھے۔ اس مہارت سے فھم قرآن میں خوب استفادہ کرتے۔ تشریح آیات میں جاہلی ادب سے استشہاد میں کئی منفرد مثالیں قائم کیں۔ حتٰیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط کی وہ جاہلی اشعار کی روشنی میں بڑی دل پزیر تشریح فرماتے۔
تدریس مولانا کا پسندیدہ مشغلہ تھا اور مدرسۃ الاصلاح بہترین جولان گاہ۔ مخصوص افتاد طبع کی وجہ سے مدرسہ پر کئی بار آنا جانا رہا مگر جب جب آئے دل لگا کر خدمت کی اور سیکڑوں نوآموز طلبہ کے ذہن و دماغ کو بالیدہ کر کے رخصت ہوئے۔ مدرسۃالاصلاح میں تدریس کے درمیان ہی القراٗۃ العربیہ نامی عربی ریڈر تصنیف فرمائی جس نے کافی مقبولیت حاصل کی۔
تحقیق و ترجمانی ان کی دوسری جولان گاہ تھی۔ ہزاروں صفحات کے ترجمے کئے۔ مشکل طبی اصطلاحات اور فلسفیانہ مباحث کی ترجمانی میں وہ طاق تھے۔ طب یونانی کے تحقیقی اداررہ سی سی آر یو ایم نے ان کی صلاحیتوں سے خوب خوب فائدہ اٹھایا اور ہزاروں صفحات کے ترجمہ کروائے۔ عیون الانبا فی طبقات الاٗطبا خاص طور سے بہت مشہور ہوئی۔ علامہ ابن قیم کی شہرہ آفاق تصنیف زاد المعاد کی اردو ترجمانی کا شرف حاصل کیا۔ تحقیق و ترجمانی کے ساتھ ساتھ متعدد طبع زاد مقالات تحریر فرمائے جو ملک و بیرون ملک موقر رسائل کی زینت بنے۔
زندگی کے آخری پڑائو پر اپنےگھر پر مدرسہ بنات المسلمین کے نام سے بچیوں کے لئے ادارہ قائم کیا جو ان کی ذاتی محنت اور اہلیہ و اولاد کے تعاون سے برگ و بار لاتے ہوے آج علاقہ کا ایک بڑا مدرسہ ہے اور فضیلت تک کی تعلیم دے رہا ہے۔ ذاتی کوشش سے اداروں کے قیام کی عجیب و غریب واقعات سنے جاتے ہیں، مگر صرف اپنی ذات اور اہل و عیال کے تعاون سے ذاتی گھر کواتنا بڑا ادارہ بنا دینا یہ مولانا ہی کے جگروگردے کی بات ہے۔ اس ادارہ کے قیام کے بعد اپنی تمام تر توجہ اسی پر مرکوز کر دی اور قویٰ کے مضمحل ہو جانے اور مکمل طور پر بینا ئی سے محروم ہو جانے کے باوجود آخری دم تک اس کی تعمیر و ترقی میں مصروف رہے۔
استاذ محترم مولانا عبدالمجید اصلاحی کی پر بہار شخصیت آج ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئی۔ عزم کے پیکر، اجتہاد و ابتکار کی علامت، انقلاب کے نقیب اور ہر دم رواں دواں رہنے والے محترم استاذ نے زندگی میں بڑے نشیب و فرازدیکھے، بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرے مگر کبھی کسی چیلنج کو نا قابل عبور تصور نھیں کیا۔ ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔
ماں باپ کی اکلوتی اولاد اپنے پیچھے اک پربہار خاندان کو چھوڑ کر رخصت ہوئی۔ اللہ تعالی نے چوراسی برس کی طویل عمر عطا کی۔ زندگی کا ہر لمحہ جد و جہد سے عبارت رہا۔ انھوں نے اپنے گاؤں کی عالی شان مسجد کے علاوہ اترا کھنڈ میں متعدد مساجد تعمیر کرائیں، گویا زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے گھر کی تعمیر، اللہ کے دین کی تعلیم اور اللہ کی کتاب کی تبلیغ میں گزارا۔ ایسی کامیاب زندگی اور سعادت مندی کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ دعا ہے کی اللہ تعالیٰ میرے استاد کی ایک ایک خدمت کو قبول فرمائے اور ہر خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

1 لائك

4 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

2 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
Commented on : 2017-08-19 05:26:38
شاہد حبیب فلاحی : پر اثر تحریر

تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.