؞   دہشت گردی کا ایک اور داغ دھلا--- کھیتا سرائے کا نوجوان و دیگر8 الزامات سے بری
۲۲ نومبر/۲۰۱۴ کو پوسٹ کیا گیا
ممبئی (حوصلہ نیوز): ممبئی ایک مقامی عدالت نے13 سال بعد ممنوعہ تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی ) سے تعلق رکھنے کے الزام میں کھیتا سرائے کے پاس یونس پور نامی گاؤں کے احتشام قطب الدین و دیگر8 مسلم نوجوانوں کو باعزت بری کر نے کا حکم صادر کیا ہے۔
ان ملزمین پر پولیس نے نہایت ہی سنگین الزامات عائد کر تے ہوئے ان کے قبضے سے قابل اعتراضات مواد و بشمول اسلامی کتابیں ضبط کر نے کا بھی دعوی کیا تھا۔۔ بقیہ نوجوانوں کا تعلق مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے ہے۔ احتشام پراس کے علاوہ2006 میں ہوئے لوکل ٹرین دھماکوں کا بھی الزام ہے اور وہ ابھی ارتھر روڈ جیل میں ہے۔ اس مقدمہ کا بھی فیصلہ جلد ہی آنے کی امید ہے۔
طویل قانونی لڑائی کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کی ان ملزمین کے خلاف پولیس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ ستمبر 2001 میں مرکزی حکومت نے سیمی پر پابندی عائد کردی تھی۔ اس پابندی میں اب تک 6 بار توسیع ہوچکی ہے اور یہ ابھی بھی جاری ہے۔ احتشام و دیگر کو ممبئی کے کرلا نامی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا لیکن کچھ مہینے بعد عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
دفاعی وکیل شریف شیخ نے عدالت میں اپنی حتمی بحث کے دوران یہ دلیل دی کہ اسٹوڈٹنس اسلامک موومنٹ سے وابستگی کے الزام میں جس وقت 9 ملزمین کو گرفتا ر کیا گیا تھا اس وقت سیمی ممنوعہ تنظیم نہیں تھی اور نہ ہی اس کے غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت موجود تھے اےسے میں مسلم نوجوانوں کو بے جا گرفتار کر کے انہیں پولیس نے ہراساں بھی کیا تھا۔
اس سلسلے میں عدالت کو شریف شیخ نے مزید بتایا کہ ان نوجوانوں پر جو یو اے پی اے قانون کی مختلف دفعات عائد کی تھی وہ غیر قانونی طرےقے سے لگائی گئی تھی جس کے لئے وزارت داخلہ سے کوئی بھی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا گیا تھا اےسے میں یہ کیس ہی پوری طرح سے غیر قانونی ہے
دفاعی وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عدالت نے اپنے مشاہدہ میں کہا کہ 9مسلم نوجوانوں کے خلاف عدالت کو کوئی بھی ثبوت نہیں ملے ہیں اور نہ ہی پولیس یہ ثابت کر پائی ہے کہ ان کے یہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے اےسے میں ان پر لگائے گئے الزامات ثابت کر نے میں پولیس پوری طرح ناکام ہے جس کے سبب ملزمین کو باعزت بری کیا جاتا ہے ۔
اس مقدمے میں بعض ملزمین کو جمعیة علماءمہاراشٹرنے قانونی مدد فراہم کی تھی۔


0 لائك

1 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

0 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.