؞   تیری نسبت براہیمی ہے معمار جہاں تو ہے
۲۳ ستمبر/۲۰۱۶ کو پوسٹ کیا گیا

ابوالفیض اعظمی
مسلمان ہر سال عید قرباں بہت عقیدت اور احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔لیکن بہت کم لوگ کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ تہوار نہیں بلکہ یاد دہانی کا دن ہے ۔اللہ تعالیٰ ہر سا ل مسلمانو ں کو سیدنا حضرت ابراھیم خلیل اللہ اور سیدنا حضرت اسماعیل ذبیح اللہ علیہماالسلام کے اس بے مثال کارنامے کو یاد دلاتا ہے۔ جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے ۔
حضرت ابراہیم ؑ کی پوری زندگی قربانیوں سے بھری پڑی ہے ۔مسلمان سال میں ایک مرتبہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کرتا ہے ۔اس قربانی کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ان تمام قربانیوں کو یاد کرے جو راہ حق میں حضرت ابراہیم ؑ نے پیش کی ہیں ۔آپ ؑ نے جب ہوش سنبھالا تب ہی یہ پکارنے لگے یہ چاند ،یہ تارے ،یہ سورج میرے معبود نہیں ہوسکتے ہیں ۔میں غروب ہوجانے والی ہستیوں کو اپنا رب نہیں مان سکتا ۔میں تو اس کے سامنے سجدہ کروں گا جو زمین وآسمان اور اس کے اند ر موجو د تمام چیزوں کا خالق اور مالک ہے ۔میں اپنے رب کا فراموش بندہ نہیں بننا پسند کرتا ۔سیدنا ابراہیم ؑ نے جس گھر میں آنکھ کھولی تھی وہ گھر کوئی معمولی گھر نہیں تھا ،بلکہ وہ اس وقت کے سب سے بڑے پروہت کا گھر تھا ۔وہ بادشاہ وقت نمرود کے خاص مشیروں میں سے تھا ۔بادشاہ اپنے ہر کا م میں اس سے مشورہ لیا کرتا تھا ۔اگر حضرت ابراہیم ؑ چاہتے تو اپنے باپ آزرکے جانشین بن جاتے اور دنیا کی تمام لذتوں سے لطف اندوز ہوتے ،مگر آپ نے ایسا نہیں کیا ۔تمام طرح کی مصیبتیں جھلیں اور تن تنہا حق کی صدا بلند کرتے رہے ۔آپ ؑ نے اپنی مشرک قوم کو سمجھانے کے لئے بتوں کو بھی توڑ ڈالا ، جس کی پاداش میں آپ کو ؑ آگ پر بھی ڈالا گیا ، ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا ۔یہ وہ آزمائیشیں تھیں جو بظاہر عوام کی طرف سے تھیں ۔اس کے علاوہ بھی آپ ؑ پر آزمائیشیں آئیں ۔آپ ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ بیٹے کو صحرا میں چھوڑ آو ۔اس کے بعدخواب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کی بیٹے کی قربانی دو۔
ہر وہ مسلمان جس کے اوپر قربانی فرض ہے ہر سال حضرت ابراہیم ؑ کی طرح اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہے کہ ! میں پوری طرح یکسو ہو کر اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جس نے زمین اور آسمان بنائے ۔میں ایک اللہ کی پرستش کرنے والاہوں ،میں مشرک لوگوں میں سے نہیں ہوں ۔میری نمازیں ،میری تمام طرح کی قربانیاں،میرا جینا اور مرنا اس رب کے لیے ہے جو دونوں جہان کا مالک ہے ۔جس کے مثل کوئی چیز نہیں ،جس کے مالکانہ حق میں دوسرا کوئی ساجھے دار نہیں ۔یہ تمام وعدے صرف دعوہ بن کر رہ جاتے ہیں ۔

۲

ایک طرف ہم اپنی نسبت اس رسول کی طرف کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نظروں میں محترم ہیں ۔جس کے طریقے پر چل کر منزل تک پہنچنے کی ذمہ داری خود اللہ تبارک وتعالیٰ نے لی ہے ۔ ہمارے علاوہ بھی دوسری قومیں مثلاًیہود اور نصریٰ بھی جسے روز اول سے اپنارہنما مانتی ہیں ۔اس پیٖغمبر نے کمسنی کے ایام میں ہی اللہ وحدہ لا شریک کے علاوہ تمام معبودانِ باطل کا انکار کردیا تھا ۔لیکن ہم وہ تمام کا م کرتے ہیں جس سے اللہ رب العزت نے ہمیں روکا ہے۔ہم پوری طرح شعور رکھنے کے باوجود بھی صرف اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان تمام چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جس سے سیدنا حضرت ابراہیم ؑ نے براء ت کا علان کیا تھا ۔ہم صرف جمعہ اور عیدین کی نماز کی طرح اجتماعی طور پر گوشت کھانے اور کھلانے کا اہتمام بڑی ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہیں ۔یہ بات صرف ذھن میں ہوتی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کی قربانی اللہ تبارک وتعالیٰ کی راہ میں پیش کی تھی ۔یہ ادا اللہ تعالیٰ کو اس قدر بھلی معلوم ہوئی کہ اس نے رہتی دنیا تک مسلمانوں کے اوپر اسے لازمی قرار دیا ۔موجودہ دور میں ہماری حالت تو ایسی ہوگئی ہے کہ غیر مسلم اور دوسرے ادیان کے ماننے والوں کی بات تو دور ہے ہم اپنے چھوٹے بچوں بھی نہیں بتا سکتے کہ قربانی جیسا اہم فریضہ اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔
اگر ہم ابراہیم ؑ کی پوری زندگی جو کی ابتلا اور آزمائش سے پُر ہے اس پر ایک سر سری نگاہ ڈالیں ۔یہ چیزخودبخودسامنے آجاتی ہے کہ ابراہیم ؑ کی صورت میں ایک باپ اور ایک ذمہ دار شخص نظر آتا ہے ۔حضرت اسماعیل ؑ کی شکل میں ایک حلیم اور بُردبار بیٹا نظر آتا ہے اور حضرت ہاجرہ ؑ کی صورت میں ایک اطاعت کرنے والی فرمانبردار بیوی نظر آتی ہے ۔یہی چیزیں( باپ ،بیٹااور بیوی )ایک اچھے اور صالح معاشرہ کو تشکیل دینے میں بہت کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔جس سے خاندان ،قبیلہ اور شہر آباد ہوتے ہیں ۔ہم یہاں ذرا ٹھہر کر اپنا محاسبہ کریں کہ کیا ہم میں سے جو لوگ والدیاگھر کے ذمہ دارہیں وہ کیا اپنے گھر والوں کی تربیت اس طور پر کرتے ہیں کہ اگر ان سے کہا جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فلاں کام کرنے جارہا ہوں تو کیا ان کے گھر والے اس بات کو مان لیں گے ۔جو بیٹے کی عمر کے ہیں وہ کیا حضرت اسماعیل ؑ جیسا بیٹا بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ہماری وہ بہنیں جو بیوی کے روپ میں شوہر کی خدمت گارہوتی ہیں وہ حضرت ہاجرہ ؑ کی طرح فرمانبرداری اور جانثاری کا ثبوت پیش کرسکتی ہیں جنھوں نے اللہ کے حکم سے لق ودق صحرا میں ایک معصوم بچے کے ساتھ قیام کرنا ضروری سمجھا ۔اگر ایک باپ اور گھر کے ذمہ دار شخص کے اندر یہ صفت پیدا نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر والوں کی صحیح طور پر تربیت کرسکے ۔ایک بیٹے کے اندر حضرت اسماعیلؑ والی فرمانبرداری نہیں آتی کہ وہ اپنے والدین اور اللہ تعالیٰ کی پوری پوری اطاعت کرے ۔عورتوں کے اندر حضرت ہاجرہ ؑ کی طرح سلیقہ مند اور اطاعت گزار بیوی بننے کاملکہ نہیں توضرور ہماری قربانی میں کچھ نہ کچھ کھوٹ ہے ۔ہماری نیت درست نہیں ہے ۔ہم صرف نام ونمود کے لیے اور گوشت کھانے اور کھلانے کے لئے قربانی جیسے مقدس فریضہ کو انجام دیتے ہیں ۔ہم بطور ٹیکس اس قربانی کو سال میں ایک مرتبہ جان چھوڑانے کی غرض سے کرتے ہیں ۔
اگر ایسا نہیں ہے تو ! آئیے ہم عہد کریں اور جانور کی گردن پر چھری پھیرنے سے پہلے اپنے آپ کو مکمل طورپر تیار کرلیں کہ ہم اپنے اندر وہ تمام صفات پیدا کریں گے جوسیدنا حضرت ابراہیم ؑ کے پاس تھیں ۔ہم یہ عہد کریں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اس طرح کا مظاہرہ کریں گے کہ گھر بار چھوڑنے ،بیوی بچوں سے جدا ہو نے اور راہ خدا میں جان کی بازی لگانے کا وقت آیا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ہم آج سے ان تمام معبودان باطل کی پوجا چھوڑدیں گے جسے نہ چاہتے ہوئے بھی پوجتے ہیں ۔ہم یہ بھی عہد کریں کہ ہمیں بھی حضرت ابراہیم ؑ کی طرح اس جہاں کا معمار بننا ہے ۔آج سسکتی اور بلکتی انسانیت کو ایک نئے جذبے اور حوصلے کے ساتھ میدانِ عمل میں لاکھڑا کرنا ہے ۔اگر ایسا ہوا تو وہ دن دور نہیں آگ پھر سے گلزار بن جائے گی اور عوا م اپنے حقیقی رب سے متعارف ہو جائے گی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی انڈیا

1 لائك

5 پسندیدہ

0 مزہ آگیا

2 كيا خوب

0 افسوس

0 غصہ

 
؞ ہم سے رابطہ کریں

تبصرہ / Comment
آپ کا نام
آپ کا تبصرہ
کود نقل کريں
؞   قارئین کے تبصرے
تازہ ترین
سیاست
تعلیم
گاؤں سماج
HOME || ABOUT US || EDUCATION || CRIME || HUMAN RIGHTS || SOCIETY || DEVELOPMENT || GULF || RELIGION || SPORTS || LITERATURE || OTHER || HAUSLA TV
© HAUSLA.NET - 2017.